→ تمام مضامین پر واپس
نصاب و تدریس9 منٹ مطالعہ

ECE نصاب 2026: نجی پری اسکولوں کے لیے نئے قومی مسودے کی گائیڈ

نیشنل کریکولم کونسل نے ECCE کا نیا مسودہ عوامی رائے کے لیے جاری کیا ہے۔ جانیے 2020 کے نصاب سے کیا بدلا اور آپ کی نرسری و پریپ کلاسوں کو کیا تیاری کرنی چاہیے۔

شائع کردہ: 22 اکتوبر، 2026

نیا ECE نصاب 2026 کیا ہے؟ مختصر جواب

ECE نصاب 2026 دراصل نیو نیشنل کریکولم آف پاکستان (NNCP) 2026 کا وہ حصہ ہے جو ابتدائی بچپن کی نگہداشت و تعلیم (ECCE) کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے نیشنل کریکولم کونسل (NCC) ونگ نے ستمبر 2026 میں اس کا مسودہ، نیشنل کریکولم فریم ورک اور پہلی سے پانچویں جماعت کے مسودہ نصاب کے ساتھ عوامی رائے کے لیے جاری کیا۔ یہ مسودہ کھیل پر مبنی (play-based) تعلیم، چار ترقیاتی دائروں اور سات لرننگ ایریاز کے گرد بنا ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ اکتوبر 2026 تک یہ ابھی مسودہ ہے، حتمی نوٹیفائیڈ نصاب نہیں۔ فی الحال بنیادی حوالہ سنگل نیشنل کریکولم برائے ECCE، گریڈ پری-I، 2020 ہے، اور صوبے نصاب کو اپنے اپنے طریقے سے اپناتے اور نافذ کرتے ہیں۔

پھر بھی نجی پری اسکول اور مونٹیسوری مالکان کے لیے یہ صحیح وقت ہے کہ وہ دیکھیں ان کی نرسری اور پریپ کلاسیں اس سمت سے کتنی ہم آہنگ ہیں، کیونکہ اساتذہ کی تربیت، درسی مواد اور انسپیکشن کی توقعات آخرکار اسی نصاب سے جڑیں گی۔

2020 کا نصاب اور 2026 کا مسودہ: بنیادی فرق کیا ہیں؟

2020 کا SNC برائے ECCE چار سے پانچ سال کے بچوں کے لیے تھا، یعنی وہ کلاس جسے ملک میں پریپ، نرسری، کچی یا اَن داخل کہا جاتا ہے۔ اسی دستاویز میں یہ گنجائش بھی رکھی گئی تھی کہ ضرورت ہو تو تین سے چار سال کے بچوں کے لیے ایک اور پری پرائمری کلاس اسی بنیاد پر تیار کی جا سکے۔

2026 کا مسودہ تقریباً ساڑھے چار سے ساڑھے پانچ سال کے بچوں کو مخاطب کرتا ہے اور ترقی کو چار باہم جڑے دائروں میں دیکھتا ہے: ذہنی (cognitive)، زبان و ابلاغ، سماجی و جذباتی، اور جسمانی۔ مسودہ واضح کہتا ہے کہ یہ دائرے منصوبہ بندی اور مشاہدے کا فریم ورک ہیں، انہیں کلاس میں الگ الگ مضامین نہیں بنانا۔

دوسرا بڑا فرق ریسپانسو کیئر گیونگ (responsive caregiving) ہے، یعنی استاد بچوں کے ساتھ گرم جوش اور قابلِ پیش گوئی تعلق بنائے، ان کے اشاروں کو سمجھے اور جذبات سنبھالنے میں مدد دے۔ مسودہ اسے واضح طور پر استاد کی ذمہ داری قرار دیتا ہے۔

اس کے علاوہ بچوں کی گھریلو زبانوں کا احترام، شمولیت (inclusion)، ذاتی حفاظت، اور بڑوں کی رہنمائی میں ٹیکنالوجی سے مناسب واقفیت جیسے موضوعات کو پورے نصاب میں جگہ دی گئی ہے، الگ مضمون کے طور پر نہیں۔

سات لرننگ ایریاز کیا ہیں اور کلاس میں کیسے نظر آتے ہیں؟

مسودہ 2020 والے سات لرننگ ایریاز برقرار رکھتا ہے، البتہ کچھ کے نام اور دائرہ کار بدلے ہیں۔ 2020 میں بنیادی ریاضیاتی تصورات اور صحت، صفائی اور حفاظت جیسے نام تھے؛ مسودے میں عددی مہارت کی اصطلاح آئی ہے، غذائیت کو صحت والے ایریا میں واضح طور پر شامل کیا گیا ہے اور اخلاقی نشوونما کو ذاتی و سماجی نشوونما کا حصہ بنایا گیا ہے۔

پری اسکول کے لیے اس کا عملی مطلب یہ ہے کہ اسنیک ٹائم، ہاتھ دھونا اور کھانے کے آداب بھی اب تدریس کا حصہ ہیں، صرف روٹین نہیں۔ اسی طرح سچ بولنا، باری کا انتظار کرنا اور دوسروں کا خیال رکھنا الگ اخلاقیات کی کلاس کے بجائے روزمرہ کھیل اور بات چیت میں سکھایا جانا ہے۔

مسودہ ہر ایریا کو اسٹینڈرڈز، اسٹرینڈز، بینچ مارکس اور قابلِ مشاہدہ لرننگ آؤٹ کمز میں تقسیم کرتا ہے، اور ساتھ تجویز کردہ سرگرمیاں بھی دیتا ہے۔ اپنی سالانہ منصوبہ بندی بناتے وقت یہی آؤٹ کمز سامنے رکھیں۔

ہر ایریا کے ساتھ ایک سادہ کلاس روم مثال یہ ہے:

  • ذاتی، سماجی، جذباتی اور اخلاقی نشوونما: باری لینا، چیزیں بانٹنا، اپنا تعارف کروانا، چھوٹے جھگڑے خود سلجھانا
  • زبان اور خواندگی: کہانیاں اور نظمیں، آوازوں کی پہچان، اردو اور انگریزی حروف سے ابتدائی واقفیت اور پری رائٹنگ
  • بنیادی عددی مہارت (Basic Numeracy): گنتی، مقدار کا موازنہ، اشکال اور پیٹرن، ٹھوس چیزوں کے ذریعے جمع تفریق کا تصور
  • ہمارے ارد گرد کی دنیا: خاندان، محلہ، موسم، پودے اور جانور، پاکستانی ثقافت اور ماحول کی حفاظت
  • صحت، صفائی، غذائیت اور حفاظت: ہاتھ دھونا، صحت بخش کھانا پہچاننا، ذاتی حفاظت اور اپنے جسم سے آگاہی
  • تخلیقی فنون: رنگوں اور مختلف مواد سے تصویر بنانا، تال اور حرکت، ڈرامائی کھیل اور تعمیراتی کھیل
  • جسمانی نشوونما: دوڑنا، توازن، گیند پکڑنا، اور قینچی یا کریون جیسی باریک حرکات (fine motor)

بچوں کی جانچ کیسے ہو؟ امتحان نہیں، مشاہدہ

مسودے کا سب سے عملی پیغام شاید تشخیص (assessment) کے بارے میں ہے۔ اس کے مطابق بچوں کی پیش رفت کھیل اور روزمرہ معمولات کے دوران مشاہدے، بات چیت، بچوں کے کام کے نمونوں اور پورٹ فولیو کے ذریعے دیکھی جائے، اور اسی سے تدریس کی منصوبہ بندی اور والدین سے رابطہ کیا جائے۔

مسودہ یہ بھی کہتا ہے کہ ترقی کے اشاریوں کو سخت عمری حد، امتحانی معیار یا بچوں کو باہر رکھنے کی بنیاد نہیں بنانا چاہیے۔ جن اسکولوں میں نرسری یا پریپ میں داخلے سے پہلے تحریری ٹیسٹ لیا جاتا ہے، انہیں اپنا طریقہ کار اس روشنی میں ضرور دوبارہ دیکھنا چاہیے۔

عملی طور پر اس کا مطلب ہے کہ نمبروں والے رپورٹ کارڈ کی جگہ یا اس کے ساتھ ایک سادہ مشاہداتی رپورٹ رکھیں: بچہ کیا کر سکتا ہے، کس چیز میں مدد چاہیے، اور گھر پر والدین کیا کر سکتے ہیں۔ ہر بچے کی ایک فائل میں اس کی ڈرائنگز، کٹنگ پیسٹنگ کا کام اور استاد کے مختصر نوٹس جمع کرتے جائیں۔

مونٹیسوری یا اپنا نصاب چلانے والے اسکول کیا کریں؟

بہت سے نجی پری اسکول مونٹیسوری طریقہ، کسی پبلشر کی سیریز یا اپنا تیار کردہ نصاب چلاتے ہیں۔ قومی نصاب کا بنیادی مقصد یہ بتانا ہے کہ بچوں کو کن شعبوں میں کم از کم کیا مواقع ملنے چاہئیں۔ مثال کے طور پر اسلام آباد کے 2024 کے رجسٹریشن رولز اداروں سے حکومت، بورڈ اور اتھارٹی کے مقرر کردہ نصاب کی پیروی کا تقاضا کرتے ہیں، اور ساتھ یہ گنجائش دیتے ہیں کہ دوسری اسکیم آف اسٹڈیز پر چلنے والے ادارے اپنا نصاب جاری رکھ سکتے ہیں، بشرطیکہ وہ قانون اور رولز سے متصادم نہ ہو۔ اپنے صوبے کی پوزیشن متعلقہ اتھارٹی سے معلوم کریں۔

بہترین عملی قدم ایک میپنگ شیٹ ہے: ایک طرف سات لرننگ ایریاز لکھیں اور دوسری طرف اپنی موجودہ سرگرمیاں۔ مونٹیسوری کی پریکٹیکل لائف سرگرمیاں عموماً صحت و صفائی اور ذاتی نشوونما سے، اور سینسوریل مواد عددی مہارت اور ارد گرد کی دنیا سے جڑ جاتا ہے۔ جہاں خانہ خالی رہ جائے، وہی آپ کی اصل کمی ہے۔

یہ شیٹ انسپیکشن اور والدین کی میٹنگ دونوں میں کام آتی ہے، کیونکہ آپ دکھا سکتے ہیں کہ آپ کا طریقہ مختلف سہی، مگر بچوں کی ہمہ جہت نشوونما کا پورا خیال رکھا جا رہا ہے۔

کلاس روم کی تیاری: گوشے، روزمرہ معمول اور مواد

2020 کا نصاب کلاس روم کو لرننگ کارنرز یعنی گوشوں میں تقسیم کرنے کی سفارش کرتا ہے، اور کہتا ہے کہ ایک وقت میں تین یا زیادہ گوشے قائم کیے جا سکتے ہیں: زبان، لائبریری، آرٹ، ریاضی، سائنس اور ہوم کارنر۔ ہوم کارنر میں بچوں کے ثقافتی پس منظر کے مطابق برتن، کپڑے اور گڑیاں رکھی جاتی ہیں، اور بعد میں اسے دکان یا ڈاکٹر کا کلینک بنایا جا سکتا ہے۔

ان کے لیے مہنگا سامان ضروری نہیں۔ 2020 کا نصاب خود باہر کے کھیل کے لیے بڑی گیندوں، پرانے ٹائروں اور ڈبوں جیسی سادہ چیزوں کی مثال دیتا ہے، اور 2026 کا مسودہ پٹھو گرم، چھپن چھپائی اور کھو کھو جیسے مقامی کھیل تجویز کرتا ہے، جو جسمانی نشوونما کے ساتھ باری لینا اور ٹیم ورک بھی سکھاتے ہیں۔ بجٹ کم ہو تو پہلے اساتذہ کی تربیت پر خرچ کریں، پھر مواد پر۔

اسی طرح ایک مستقل روزمرہ معمول تجویز کیا گیا ہے، جو تصویروں کے ذریعے دیوار پر لگایا جائے تاکہ پڑھنا نہ جاننے والے بچے بھی سمجھ سکیں کہ آگے کیا ہونے والا ہے۔ اپنی کلاس کے لیے یہ فوری چیک لسٹ استعمال کریں:

  • دن کا آغاز دعا یا قومی ترانے اور گریٹنگ سرکل سے، جس میں تاریخ، موسم اور گھر کی باتیں ہوں
  • استاد کی رہنمائی میں چھوٹے گروپوں کا کام
  • روزانہ باہر کھیل کا وقت، نگرانی اور حفاظتی اصولوں کے ساتھ
  • ہاتھ دھونے کے بعد منظم اسنیک ٹائم، صحت بخش کھانے پر گفتگو کے ساتھ
  • پلان، ورک، کلین اپ اور ریویو: بچہ خود گوشہ چنے، کام کرے، چیزیں سمیٹے اور بتائے کہ اس نے کیا کیا
  • کہانی اور نظم کا وقت
  • نچلی شیلفیں اور ڈبے تاکہ بچے خود چیزیں نکالیں اور واپس رکھیں

اساتذہ کی تربیت اور والدین کو ساتھ کیسے رکھیں؟

کھیل پر مبنی نصاب کا سب سے بڑا چیلنج اکثر والدین کی توقعات ہوتی ہیں۔ بہت سے والدین نرسری میں ہی کاپیاں بھری ہوئی دیکھنا چاہتے ہیں۔ اگر آپ انہیں یہ نہیں بتائیں گے کہ بلاکس سے کھیلنا گنتی اور اشکال کی بنیاد ہے، تو وہ سمجھیں گے کہ بچہ صرف کھیل رہا ہے۔

اس کے لیے ہفتہ وار سرگرمیوں کی جھلک، تصاویر اور مختصر وضاحت بہت مؤثر رہتی ہے۔ Eduminika کی مفت اسکول ویب سائٹ پر آپ ایونٹ کیلنڈر، کلاس کا ٹائم ٹیبل، ہفتہ وار کھانے کا مینو اور فوٹو گیلری شائع کر سکتے ہیں۔ چونکہ غذائیت اب ایک لرننگ ایریا کا حصہ ہے، مینو کو بھی والدین سے صحت بخش کھانے پر بات چیت کا ذریعہ بنایا جا سکتا ہے۔

اساتذہ کے لیے مسودہ پیشہ ورانہ تربیت پر زور دیتا ہے۔ سال میں چند مختصر اندرونی ورکشاپس رکھیں: مشاہدہ کیسے لکھیں، پورٹ فولیو کیسے بنائیں، اور جذباتی طور پر پریشان بچے کو کیسے سنبھالیں۔

والدین سے رابطے کے 5 ڈیجیٹل ٹولز دیکھیں

مسودے پر اپنی رائے کیسے دیں؟

NCC نے اساتذہ، والدین، ماہرینِ تعلیم، اداروں، سول سوسائٹی اور بیرونِ ملک پاکستانیوں کو مسودوں پر رائے دینے کی دعوت دی ہے، اور ہر مضمون کے لیے فیڈبیک پروفارما ویب سائٹ پر رکھے گئے ہیں۔ نجی پری اسکول روزانہ بچوں کے ساتھ کام کرتے ہیں، اس لیے ان کی عملی رائے خاص اہمیت رکھتی ہے۔

  • ncc.gov.pk سے ECCE کا مسودہ (Draft Curriculum - ECCE) ڈاؤن لوڈ کریں
  • اپنی اساتذہ کے ساتھ ایک میٹنگ میں اس کے آؤٹ کمز پڑھیں
  • ٹھوس نکات لکھیں: کون سا آؤٹ کم آپ کے بچوں کے لیے مشکل یا بہت آسان ہے، اور کس سرگرمی کے لیے مقامی مواد نہیں ملتا
  • مقررہ پروفارما پر رائے جمع کروائیں؛ آخری تاریخ اور طریقہ NCC کی ویب سائٹ پر دیکھ لیں

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

کیا نیا ECE نصاب نافذ ہو چکا ہے؟ نہیں۔ اکتوبر 2026 تک NNCP 2026 مسودے کی شکل میں عوامی رائے کے لیے جاری ہوا ہے۔ حتمی منظوری اور صوبائی سطح پر نفاذ کے نوٹیفکیشنز پر نظر رکھیں۔

کیا نرسری میں لکھنا سکھانا منع ہے؟ نہیں۔ مسودہ ابتدائی خواندگی، حروف کی پہچان اور پری رائٹنگ کو شامل کرتا ہے، مگر زور رٹے اور امتحان کے بجائے بامعنی، کھیل پر مبنی سرگرمیوں پر ہے۔

کیا پلے گروپ کے تین سال کے بچوں کے لیے بھی یہی نصاب ہے؟ دونوں دستاویزات بنیادی طور پر پریپ یا کچی عمر کے بچوں کے لیے ہیں۔ پلے گروپ میں آپ انہی ایریاز کو آسان سرگرمیوں کے ساتھ استعمال کر سکتے ہیں، مگر اپنے صوبے کی ہدایات بھی ضرور دیکھ لیں۔

آپ کے پری اسکول کی ویب سائٹ، 5 منٹ میں تیار

Eduminika کے ساتھ مفت سب ڈومین پر ایک پیشہ ور سائٹ بنائیں — کھانے کا مینو، تقریبات اور مزید کچھ منٹوں میں منظم کریں۔

مفت شروع کریں

یہ بھی آپ کو پسند آ سکتے ہیں

خریداری گائیڈ8 منٹ کا مطالعہ

ڈے کیئر مینجمنٹ سافٹ ویئر کیسے منتخب کریں: فیصلہ کرنے سے پہلے پوچھنے کے 7 سوالات

چائلڈ کیئر پلیٹ فارمز کی درجنوں اقسام موجود ہیں، اور ہر ایک دعویٰ کرتا ہے کہ وہ "سب کچھ کر سکتا ہے"۔ درست انتخاب سب سے لمبی فہرستِ خصوصیات سے نہیں بلکہ آپ کے اسکول کی حقیقی ضروریات سے شروع ہوتا ہے۔ حتمی فیصلہ کرنے سے پہلے یہ 7 سوالات ضرور پوچھیں۔

مضمون پڑھیں
مارکیٹنگ7 منٹ کا مطالعہ

آپ کے پری اسکول کو ایک پیشہ ورانہ ویب سائٹ کیوں چاہیے

آج جب کوئی والد یا والدہ پری اسکول تلاش کرنا شروع کرتے ہیں تو سب سے پہلے کیا کرتے ہیں؟ وہ کوئی فون بک نہیں کھولتے — وہ Google کھولتے ہیں۔ ویب سائٹ کے بغیر پری اسکول اس تلاش میں سرے سے موجود ہی نہیں ہوتا۔

مضمون پڑھیں
گائیڈ8 منٹ کا مطالعہ

5 منٹ میں ایک مفت پری اسکول ویب سائٹ کیسے لانچ کریں: مرحلہ وار گائیڈ

کوئی کوڈنگ کی مہارت نہیں، کوئی ڈیزائن بجٹ نہیں، کوئی بہانہ نہیں۔ سائن اپ سے لے کر Eduminika کے ساتھ لائیو ہونے تک، مرحلہ وار بالکل یہی ہوتا ہے۔

مضمون پڑھیں